Thursday, 13 April 2017

نوشی گیلانی


موت سے مُکر جائیں
زندگی سے ڈر جائیں

ہجر کے سمندر کو
آؤ پار کر جائیں

راستے یہ کہتے ہیں
اب تو اپنے گھر جائیں

اِک ذرا سی مُہلت ہو
دل کی بات کر جائیں

شہرِِ عشق سے آخر
کیسے معتبر جائیں

وہ پلٹ کے دیکھے تو
رنگ سے بِکھر جائیں


نوشیؔ گیلانی

1 comment: